108

اسلام بین مذاہب اتفاق و اتحاد کا درس دیتا ہے ، حمید قمی

رخانہ فرہنگ ایران پشاور میں امت کے اتحاد میں دانشمندوں اورمذہبی جماعتوں کا کر دارکے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد ، ڈائریکٹر مہران اسکندریان ، ایم پی اے فضل الہیٰ ، مولانا شعیب ودیگر کا خطاب
خانہ فرہنگ کے زیراہتمام ہفتہ وحدت کی مناسبت سے” اسلامی امت کے اتحاد میں دانشمندوں اور مذہبی جماعتوں کا کردار” کےعنوان سے ایک کنفرنس منعقد کی گئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء ، مفکرین ، ادیبوں اور جامعات کے اساتید نے شرکت کی اور وحدت کے موضوع پرسیر حاصل گفتگو کی۔ تقریب کی صدارت ایم پی اے فضل الہی نے کی۔ اس موقع پر خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کے ڈایریکٹر مہران اسکندریان نے میزبان کی حیثیت سے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں نشر ہونے والے گستاخانہ خاکے اسلام دشمنی کی ایک مثال ہے جس کی پشت پناہی اسرائیل اور امریکا جیسے ممالک کر رہے ہیں ۔

مسلمانوں کو یہ بات ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بنیادی اقدام مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد اور محبت و بھائی چارہ قائم کرنا تھا۔ آج عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف کا مسئلہ ہے ۔ اسلامی مذاہب کے اندر بعض فروعی اختلاف موجود ہونے کے باوجود اصول میں سب مشترک ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ آج اگر تمام مسلمان ممالک اکھٹے ہو جائیں تو کوئی شک نہیں کہ اسلام دشمن آقا ﷺ کی توہین کے تصور سے بھی لرز اٹھیں گے ۔
امام خمینی (رح) نے ان شرایط کو بھانپتے ہوئے 12 سے 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت کا نام دیا اور مسلمانوں کو اس موقع سے بھرپور فایدہ اٹھانا چاہئے۔ پشاور میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل جناب حمید قمی نے فرانس میں گستاخانہ خاکون کی مذمت کی اور کہا آنحضور ( ص) کی ذات اقداس تمام اسلامی ادوار میں مسلمانوں کی وحدت کا بنیادی نکتہ رہا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے ہفتہ وحدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپس میں اتحاد و یگانگت پیدا کریں اور یہی حالات کا تقاضا بھی ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے جناب فضل الہی نے میہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں کہا سب ایک خدا ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والے ہیں۔ سب ہی قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ وحدت کے اس پیغام کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان آئیں اور آپس میں متحد ہو جائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی نہ کریں۔ اس کا محور بھی خدا کی کتاب اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہونی چاہیے ۔ یہ وہ بات ہے جیسے ہر عاقل، بے غرض اور منصف انسان قبول کرے گا۔جب سب مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان سب کی اصل ایمان ہے ۔ اس لیے اس اصل کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والے آپس میں نہ لڑیں بلکہ ایک دوسرے کے دست و بازو، ہمدرد و غمگسار اور خیرخواہ بن کر رہیں اور اگر کبھی غلط فہمی کی وجہ سے ان میں نفرت پیدا ہو جائے اور دوریاں حائل ہو جائیں تو انہیں دور کر کے انہیں آپس میں دوبارہ جوڑ دیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں