103

تین دن کابل میں،‌ضیاء الحق سرحدی کی خصو صی تحریر

قارئین کرام! دورہ کابل کے دوران پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تفصیلات سے پہلے میں افغانستان کے بارے میں کچھ معلومات قارئین کو بتاتا چلو افغانستان کے دارلحکومت کابل کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا افغانستان ،بلکہ ماضی میںکابل ہی افغانستان تھا ۔کابل کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کہیں مرتبہ حملہ آوروں نے اسے تخت و تاراج کیا افغانستان میں سب سے پہلے عرب آئے لیکن ان کی حکومت قندھار، ہرات اور غزنی تک تھی ۔ کابل میں سب سے پہلے مغل تاجدار ظہیرالدین بابر آیا جس نے نہ صرف کابل کو فتح کیا بلکہ یہیں سے ہی وہ ہندستان پرحملہ آور ہوا۔ اس کے بعد نادر شاہ نے 1738ء میں کابل پر قبضہ کر لیا لیکن احمد شاہ درانی نے اس کی حکومت کو ایک خوفناک جنگ کے بعد ختم کردیا۔ پھر اس کے بعد اس کا بیٹا تیمور شاہ درانی حکمران بنا جس نے دارالحکومت قندھار سے کابل منتقل کرلیا۔ 1772ء میں اس کا بیٹا زمان شاہ درانی تخت پر بیٹھا۔ 1793ء میں اس نے وفات پائی اس کے بعد انگریز اس پر چڑھ دوڑے لیکن افغانوں کے ہاتھوں بری طرح شکست کھائی۔ویسے تو افغانستان کی آبادی تقریبا تین کروڑ ہے لیکن دارالخلافہ کابل کی آبادی پچاس لاکھ کے قریب ہے ۔ پسماندہ ہونے کے باوجود امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی کی وجہ سے نہایت شہرت کا حامل رہاہے محل و قوع کے اعتبار سے چاروں اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اور ایک لینڈ لاک ملک ہے۔خشکی کے راستے اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق جنیوا کنونشن 1958ء کے تحت پڑوسی ممالک پر سہولتیں مہیا کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ کابل میں اسی لاکھ گاڑیاںروڈز پر دوڑ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر راستے میں اس قدر رش ہوتی ہے کہ وقت مقررہ پر بمشکل پہنچا جاسکتا ہے۔
اس وقت پاک افغان دوستی اور تجارت کے فروغ کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔وزیراعظم عمران خان کے دورہ افغانستان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات آگے بڑھیں ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت افغانستان کے ساتھ تجارتی واقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے جبکہ پاک افغان فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹیو کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔پاک افغان تعلقات میں مزید بہتری لانے کے لئے وزیر اعظم عمران خان گزشتہ دنوںافغان صدر اشرف غنی کی خصوصی دعوت پر ایک روزہ دورے پر کابل گئے تو ایئرپورٹ پر ان کا استقبال افغان وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے کیاتھا جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان افغان صدارتی محل گئے جہاں افغان صدر اشرف غنی نے ان کا استقبال کیاتھا۔ افغان صدر سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور اور افغان مفاہمتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان صدارتی محل میں وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اپنے پہلے دورہ افغانستان کے موقع پر پریس کانفرنس میں عمران خان نے سب سے پہلے صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں 50سال سے کابل اور افغانستان کا دورہ کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن یہ کبھی ہو نہیں سکا اور اب آپ نے مجھے یہ موقع فراہم کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 60اور 70کی دہائی میں پاکستانیوں کے لیے کابل پسندیدہ جگہ تھی جبکہ افغانوں کے لیے پشاور تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، میں نے ایسے وقت میں جب افغانستان میں تشدد بڑھ رہا ہے، دورے کا خیال اس لیے کیا کیونکہ پاکستانی حکومت اور پاکستان کے لوگ افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے لوگ
4دہائیوں سے ان حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اگر کسی انسانی برادری کو امن کی ضرورت ہے تو وہ افغانستان ہے اور یہاں امن کے لیے پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔ میرا افغانستان آنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم یقین دلا سکیں کہ جو ممکن ہوا پاکستان وہ کرے گا اور ہم اس تشدد کو کم کرنے اور جنگ بندی کی طرف لانے میں مدد کریں گے۔قارئین کرام کابل دورے کے موقع پر پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی افغانستان کے شہر کابل میں ہونیوالی(Pak Afghan Trade and Economic Connectivity) پاک افغان ٹریڈ اینڈ اکنامک کنکٹیویٹی (4th Focus Group Discuss in Serena Hotel Kabul) چوتھی فوکس گروپ ڈسکیشن میں پاکستان اور افغانستان کے مابین باہمی تجارت کے فروغ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نئے معاہدے پردونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے ٹرانزٹ ٹریڈ کا نیامعاہدہ ‘ افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA)میں 1965ء کے معاہدے کے طرح اپٹا کے نئے معاہدے میں بھی سہولیات دینے پر نظرِ ثانی ‘ دونوں جانب کی طرف سے باہمی تجارت کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے لیزان کمیٹی کاقیام’تجارتی وفود کے تبادلے پاکستان اور افغانستان میں سرمایہ کاری کے فروغ ‘دونوں جانب سے فریش فروٹ،ڈرائی فروٹ،پیراشیبل آئٹم کی ویلیوایشن میں اضافہ پر نظرِثانی’پاکستان افغانستان بزنس کمیونٹی کے ویزوں میں سہولتیںملٹی پل ویزوں کا اجراء اور حکومتی سطح پر دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی سمیت متعدد اقدامات پر اتفاق ہوا ہے ،جبکہ پاکستان کی جانب سے پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین زبیر موتی والا کی سربراہی میں8رکنی وفد میں پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر خالد شہزاد’ سابق صدر جنید مکڈا’سابق سینئر نائب صدرضیاء الحق سرحدی’قاضی زاہد حسین’جائنٹ چیمبر کی سیکرٹری جنرل فائزہ زبیر’محترمہ در شہواراورزبیر احمد نے کابل کا دورہ کیا اورکابل میں منعقدہ سمینار میں شرکت کی ،جس میں افغانستان میںپاکستان کے ٹریڈاینڈانویسمنٹ قونصلر آصف خان نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ افغانستان کی جانب سے پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس (افغان چیپٹر)کے صدرخان جان الکوزی’افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ACCI) کے نائب صدر الحاج محمد یونس مومند ‘چیف ایگزیکٹیو آفیسر سید زمان ہاشمی’ مشیر برائے صنعت و تجارت محمد نبی حکیمی’وزارت خارجہ کے نائب پہلے ڈپٹی پولیٹیکل ڈائریکٹر عبد الناصر یوسفی’کسٹم ڈائریکٹر آپریشنز مسیح اللہ فرخ ‘وزارت ٹرانسپورٹ کے مشیرعوث الدین وفا ‘وزارت زراعت کے ڈائریکٹر پالیسی اینڈ کوآرڈینیشن اسماعیل حسن زادہ ‘ ڈائریکٹر حرکت نور عالم حاکم یار’چیمبر آف انڈسٹریز اینڈ مائنس کے ڈائریکٹررحیم اللہ سمندر’چیمبر آف زراعت و لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر عبید اللہ یوسف زئی ‘ ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹرمحترمہ پرورش اوریاخیل ‘چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری امید غفورزئی’ڈائریکٹر امور خارجہ افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ عبدالرحمن شنواری ‘ کوآرڈینیٹر معاشی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شعیب’یو ایس ایڈ کے نمائندے رحیم ‘ جوائنٹ چیمبر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرنقیب اللہ صافی’ازرخش حافظی ‘ داؤد موسیٰ اورنظام الدین تاجزادہ کے علاوہ افغانستان کے دیگر صوبوں سے تاجروں کے نمائندہ تنظیموں نے شرکت کی، جبکہ دونوں جانب سے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدمات اٹھانے کے لئے دونوں حکومتوں کو تجاویز دی گئیں، جبکہ پاک افغان باہمی تجارت میں مشکلات کے حوالے سے کھل کر تبادلہ خیال کیاگیا۔تاکہ دونوں ممالک کے تاجروں کو درپیش مسائل ایک میکنیزم کے تحت حل کئے جاسکیں۔پاکستانی وفد نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے میںپاکستانی سفیر جناب منصور احمد خان ‘ ٹریڈاینڈ انویسمنٹ قونصلر آصف خان ودیگر اہلکار وں سے ملاقات کی۔پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان کے مابین تجارت کو فروغ دیا جائے گا اور سفارت خانے سے پاکستانی ویزوں کا اجراء تیز سے تیز کیا جائے گا، جبکہ افغان تاجروں کو ملٹی پل ویزہ کا اجراء بھی کیا جائے گااور دوطرفہ تجارت، راہداری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے ایڈوائیزرعمر داؤد زئی کے آفس میںان سے ملاقات کی اور پاک افغان باہمی تجارت کے علاوہ افغانستان پاکستان ٹریڈ ایگریمنٹ جو کہ فروری2021 میں نیا ہونے جا رہا ہے اس میں دونوں جانب کے سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے تاکہ 2010کے معاہدے کی طرح یہ معاہدہ بھی ثبوتاژ کا شکار نہ ہو جائے۔اس موقع پر عمر داؤد زئی نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کے حل کے لئے کوشش کریں گے۔ پاکستان سے آئے ہوئے کاروباری وفد نے اپنے تحفظات اور تجاویز کو افغان حکومت کے نمائندوں اور فیڈریشن آف افغانستان چیمبر آف کامرس اور جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں کی طرف سے دی گئی تمام تجاویز کے جواب میں افغان فریق کو یقین دلایا کہ مزیدتاجر سیاست کا شکار نہیں ہوں گے اور دونوں چیمبرز کے مابین یہ ملاقاتیں جاری رہیں گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دونوں حکومتیں جلد سے جلد دوطرفہ تجارت اور راہداری کے معاہدوں پر جلد دستخط کریں گے۔عمر دادزئی نے حالیہ پاکستان وزیر اعظم کے دورے کے دوران مشترکہ وژن کے استحکام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں دونوں رہنماں کے مابین کیمیائی فوقیت کا حامل ہے جس کے نتیجے میں افغانستان میں زیر حراست پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا فوری حکم بھی ایک علامت بن گیا ہے۔ مثبت اشارے کا انہوں نے سرحد پار سے نجی اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو متاثر کرنے کے لئے مشترکہ ادارہ کے طور پر پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی اے جے سی سی آئی)کے کردار کو سراہا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ہونے والی تمام معاشی تعاملات کو تعمیری نتائج حاصل کرنے کے لئےPAJCCIکی زیادہ سے زیادہ مشغولیت ہونی چاہئے۔ زبیرموتی والا نے کابل کے دورے کے بعد پاکستان کے ذریعہ افغانستان کے لئے اعلان کردہ نئی ویزا حکومت کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے سختی سے یقین دلایا کہ ان ملاقاتوں کے نتائج یقینی طور پر مثبت نقطہ نظر کو سامنے لائیں گے اور اسٹیک ہولڈرز کو اس کے نتیجے میں ہونے والے تباہ کن اثرات سے بحالی میں مدد کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اسٹریٹجک فریم ورک تیار کیا جائے گا۔افغانستان کے دورے سے واپسی پر پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر کے سابق سینئر نائب صدرضیاء الحق سرحدی نے کابل کے دورے کو دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کے فروغ کے لئے سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کو تجارت سے متعلقہ سہولیات کی فراہمی کیلئے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔جس سے دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہونگے اور دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں