53

امریکی صدارتی انتخابات برائے 2020 کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی کاملا ہیرس اور ری پبلکن جماعت کے مائیک پینس نائب صدارت کے امیدوار ہیں۔ تقریباً 10 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ارلی ووٹنگ کے ذریعے پہلے ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اس بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق نائب صدر جو بائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر بننے کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
کاملا ہیرس اور مائیک پینس نائب صدارت کے امیدوار ہیں۔
تقریباً 10 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ارلی ووٹنگ کے ذریعے پہلے ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔
امریکہ میں صدر کا انتخاب عوامی ووٹ کے ذریعے چنے گئے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد پر ہوتا ہے۔
امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 یا اس سے زیادہ الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

امریکا میں صدارتی انتخاب آج ہوگا، انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک جھٹکا لگ گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ٹیکساس میں سوا لاکھ ووٹ مسترد کرنے کی ری پبلکن پارٹی کی درخواست مسترد کردی ہے۔

صدارتی انتخاب سے ایک روز پہلے ملک بھر میں تناؤ کی صورت حال نظر آرہی تھی، کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے دارالحکومت واشنگٹن کے کاروباری مراکز کی دکانوں اور ریسٹورنٹس کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی حفاظت کے لیے ڈھائی سو نیشنل گارڈز اسٹینڈ بائی کردیئے گئے اور اطراف میں خاردار تاریں لگادی گئی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے صحافی نے کہا ہے کہ وہائٹ ہاؤس لاک ڈاؤن ہوگیا۔

دوسری جانب امریکی صدرٹرمپ نےکہا ہے کہ پولنگ ختم ہونےکے فوری بعد وہ انتخابی نتائج چیلنج کردیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کیرولائنا میں انتخابی ریلی میں شرکت سےقبل کہا کہ پولنگ ختم ہونے کے فوری بعد بیلٹس کی گتنی روکنےکے لیے اپنے وکلا کیساتھ قانون کا راستہ اپنائیں گے۔

انہوں نے الیکشن کےبعد ووٹوں کی گنتی کو خوفناک چیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد نتائج کیلئے طویل انتظار مناسب نہیں ہے، ووٹرز کو چاہئے کہ وہ انتخابی دن کا انتظار کرنے کے بجائے اپنا ووٹ پہلے ہی کاسٹ کردیں۔

تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سےقبل امریکہ کے طول و عرض میں کیے جانے والے عوامی جائزوں کی بنا پر امیدواروں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے جیتنے کے امکانات کو پرکھا جا رہا ہے۔

امریکی انتخابات کا نتیجہ پول کی بنا پر مرتب نہیں ہوتا لیکن ان پر بات چیت انتخابی گفتگو کا اہم موضوع ہے۔ امریکہ میں صدر کا انتخاب عوامی ووٹ کے ذریعے چنے گئے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد پر ہوتا ہے۔

امریکی عوام جب ووٹ ڈالتے ہیں تو وہ ایسے افراد کے لیے ووٹ ڈال رہے ہوتے ہیں جو مل کر الیکٹورل کالج بناتے ہیں جو صدر اور نائب صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔

ہر ریاست میں الیکٹورل کالج کے اراکین کی تعداد اس کی آبادی کے تناسب سے ہوتی ہے۔ جیتنے والے امیدوار کو 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

حالیہ مختلف پول یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیمو کریٹک امیدوار بائیڈن کو قومی سطح پر صدر ٹرمپ پر سات پوائنٹس کی برتری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں