413

انڈر 21 گیمز اور ایتھلیٹکس کا نیا فاتح


انڈر 21 خیبر پختونخوا گیمز کھیلوں کے میدان آباد کرنے کے ساتھ ساتھ جہاں مختلف کھیلوں میں نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا سبب بنا ہے وہیں کھیلوں کے اس میلے نے ایتھلیٹکس میں صوبے کو ایک نیا فاتح بھی دے دیا ہے۔ صوبائی سطح پر گزشتہ پچیس سال سے ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں پشاور صوبے کے دیگر اضلاع پر حکمرانی کرتا رہا ہے لیکن 2020 میں ہونے والی انڈر 21 گیمز نے بالآخر اس حکمرانی کا خاتمہ کر دیا اور 1995 کے بعد پہلی بار ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں پشاور کی بجائے بنوں نے پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر جگہ بنائی ہے، بلاشبہ یہ ایک اچھی علامت ہے کھیلوں کے مقابلے، نئے کھلاڑیوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ ہارنے اور جیتنے والوں کو مزید محنت کا پیغام بھی دیتے ہیں۔ ایتھلیٹکس تکنیکی اصطلاح میں ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹس کہلاتے ہیں جو آٹھ مخلتف

کیٹیگریز پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں سپرنٹ، مڈل ڈسٹنس، لانگ ڈسٹنس، ہرڈلز، ریلے، جمپس، تھرو اور کمبائنڈ ایونٹس کی کیٹیگریز شامل ہیں۔ سپرنٹ میں 60, 100, 200 اور 400 میٹر کی ریس شامل ہے۔ مڈل ڈسٹنس میں 800, 1500 اور 3000 میٹر کی دوڑ شامل ہے۔ لانگ ڈسٹنس میں 5000 اور 10000 میٹر کی دوڑ شامل ہوتی ہے۔ ہرڈلز میں 60, 100, 200 اور 400 میٹر کی رکاوٹوں کی دوڑ شامل ہے۔ ریلے میں ایتھلیٹس 4 ضرب 100 اور 4 ضرب 400 میٹر کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں۔ جمپس میں لانگ جمپ، ٹرپل جمپ، ہائی جمپ اور پول والٹ شامل ہے۔ تھرو میں شاٹ پٹ، ڈسکس تھرو، ہیمر تھرو اور جیولن تھرو شامل ہیں۔ اسی طرح کمبائنڈ ایونٹس میں پینٹاتھلون، ہیپٹاتھلون اور ڈیکاتھلون کی کیٹیگریز شامل ہیں۔ ٹریک اینڈ فیلڈ کی تاریخ کئی صدیوں پرانی ہے اور باقاعدہ طور پر منعقد ہونے والے اولین ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ کا ریکارڈ 776 قبل مسیح میں ملتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ہونے والے کھیلوں کے ہر بین الاقوامی، قومی اور صوبائی سطح کی کھیلوں میں ایتھلیٹکس جزو لازم ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ درحقیقت ایتھلیٹکس کا ایونٹ ہی کسی گیمز میں سب سے زیادہ پرجوش اورشائقین کی توجہ حاصل کرنے والا ہوتا ہے تو بے جا نہ ہوگا اور اس کی ایک تکنیکی وجہ یہ بھی ہے کہ ایتھلیٹکس کے مقابلے کسی بھی سطح پر ہونے والی گیمز میں سب سے اہم اور زیادہ میڈلز کے حصول کا ذریعہ سمجھے جانے والے مقابلے ہوتے ہیں۔ مختلف فاصلوں کی دوڑ سمیت دیگر اہم اور تکنیکی کھیل بھی ان مقابلوں کا حصہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی بھی گیمز میں حصہ لینے والے صوبے، ڈیپارٹمنٹ یا ٹیمیں سب سے زیادہ ایتھلیٹکس پر ہی توجہ دیتی ہیں۔ انڈر 21 گیمز خیبر پختونخوا گیمز میں بھی یوں تو کئی کھیل شامل تھے لیکن سب سے زیادہ دلچسپ مقابلے ایتھلیٹکس کے ایونٹ میں دیکھنے کو ملے۔ حیرت انگیز طور پر بنوں نے اس ایونٹ میں صوبائی دارالحکومت پشاور کی حکمرانی چھین لی اور 112 پوائنٹس
کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ پشاور کی 86 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشں رہی، مردان 76 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ نوشہرہ کی 45 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی پوزیشن رہی جبکہ قبائلی اضلاع میں ضلع خیبر 42 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور مجموعی طور پر پانچویں نمبر پر رہا۔ بات کی جائے میڈلز کی توبنوں نے 2 گولڈ، 3 سلور اور 2 برونز میڈلز حاصل کئے، پشاور نے 2 گولڈ، 2 سلور اور 1 برونز میڈل حاصل کیا۔ مردان نے 1 گولڈ، 2 سلور اور 3 برونز میڈل جیتے، نوشہرہ نے 1 گولڈ، 1 سلور اور 2 برونز میڈل جیتے، ضلع خیبر نے 1 سلور اور 1 برونز میڈل جیتا۔ ضلع کرم نے بھی 1 گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ لکی مروت نے 1 گولڈ اور 2 سلور میڈلز حاصل کئے۔ ملاکنڈ نے 1 گولڈ اور 1 سلور میڈل جیتا۔ چارسدہ نے بھی 1 گولڈ اور 1 سلور میڈل اپنے نام کیا۔ ایبٹ آباد 1 گولڈ میڈل جیت سکا۔ کوہاٹ 1 سلور اور لوئر دیر 1 برونز میڈل جیت سکا۔ جبکہ 35 میں سے 21 اضلاع کوئی بھی میڈل اپنے نام نہ کر سکے۔ ایونٹس کی بات کی جائے تو پشاور کے فارس جان نے 800 میٹر میں سونے کا تمغہ جیتا، بنوں کے عبدالوہاب چاندی اور مردان کے زوار شاہ کانسی کا تمغہ جیت سکے۔ پشاور نے دوسرا گولڈ 4 ضرب 400 ریلے ریس میں اپنے نام کیا ٹیم میں منظور، آصف،

سلمان اور سبحان شامل تھے۔ بنوں کے لقمان، مرتضیٰ، نادر خان اور لقمان وہاب پر مشتمل ٹیم چاندی جبکہ نوشہرہ کے اسماعیل، ذاکر، پرویز اور حذیفہ پر مشتمل ٹیم نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ بنوں کے لئے پہلا گولڈ 1500 میٹر میں عبدالوہاب نے جیتا، پشاور کے فارس جان چاندی اور مردان کے زوار شاہ کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ بنوں کو دوسرا گولڈ 4 ضرب 100 میڑ ریلے ریس میں افنان، وسیم، ساجد اور جہانزیب نے جیت کر دیا۔ اس ریس میں پشاور کے سبحان، اسامہ، قدیر اور سلمان چاندی جبکہ مردان کے سیف الاسلام، شعیب خان، راشد خان اور حمزہ خان نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ ملاکنڈ کے وقاص خان نے 100 میٹر میں سونے کا تمغہ جیتا، ضلع خیبر کے واجد چاندی اور بنوں کے جہانزیب کانسی کا تمغہ جیت سکے۔ نوشہرہ پرویز کے 200 میٹر میں سونے کا، ملاکنڈ کے وقاص خان نے چاندی جبکہ ضلع خیبر کے واجد نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ ضلع کرم کے محمد یاسین نے 400 میٹر ریس میں سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ نوشہرہ کے پرویز نے چاندی جبکہ پشاور کے سبحان نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ 5000 میٹر ریس میں ضلع خیبر کے عبدالرحمان نے سونے کا تمغہ جیتا۔ ہریپور کے حماد شاہ چاندی اور کوہاٹ کے احتشام الحق کانسی کا تمغہ جیت سکے۔ ایبٹ آباد کے فراز خان نے لانگ جمپ میں سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ بنوں کے وسیم شاہ نے چاندی اور دیر لوئر کے معاذ خان نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ شاٹ پٹ میں چارسدہ کے بسم اللہ جان نے سونے، چارسدہ کے ہی ابوذر نے چاندی اور بنوں کے ذوالقرنین نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ ڈسکس تھرو میں مردان کے ذیشان نے سونے کا تمغہ جیتا۔ مردان ہی کے عبدالرؤف نے چاندی اور لکی مروت کے قدیر نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ جیولن تھرو میں لکی مروت کے عبدالقدیر خان نے سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ مردان کے موسیٰ خان نے چاندی جبکہ نوشہرہ کے شہاب خان نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں