47

اسلامی جمہوریہ ایران یورپی استعمار کی سازشیں ناکام بناتا رہے گا، حمید رضا قمی

فرانس اور جرمنی نے ہمارے ایٹمی سائینسدان فخری زادے کے قتل جیسی گھناونی دہشت گردی کی مذمت تک نہیں کی لیکن ایک ایسے شخص کی پھانسی پر جس نے ملک کی سیکورٹی کے خلاف کئے گئے اقدامات کا اعتراف بھی کیا، پر واویلا کر رہے ہیں جو پر لے درجے کی منافقت ہے

یورپی ممالک کو انسانی حقوق پر بات کرنے کا حق نہیں پہنچتا ، یمن میں انسانیت کے قتل پر خاموشی اختیار کرنے والی یورپی یونین کس منہ سے انسانی حقوق کی بات کر رہی ہے ، مغربی میڈیا دوغلے پن کا شکار ہے ، کسوٹی کیساتھ خصو صی مکالمہ

انٹرویو ، محمدداﺅد

مسلمانوں کے حوالے سے مغربی میڈیا دوغلے پن کا کا شکار ہے وہ اپنی مرضی کی تنظمیوں کوشدد پسند قرار دے رہا اور یورپ بعض تشدد پسند گروہوں کی پناہ گاہ بنادیا گیا تاہم ایرانی سائنس دان فخری زادے کی قتل پر جرمنی اور فرانس جیسے ممالک نے مذمت تک نہیں کی ، ایک شخص کی پانسی پر جو ممالک شور مچارہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس پر موساد اور فرانسیسی ادروں کے کیساتھ کام کرنے الزامات ثابت ہو چکی ہیں تاہم اس کے باوجود یہ مغربی ممالک اپنے مفادات کے بیانات جاری کر رہے ہیں ، یورپی ممالک نے دشت گردوں کو اچھے اور برے دہشت گردوں میں تقسیم کر دیا ہے جو ان کے دوغلے پن کا بین ثبوت ہے ۔ تاہم اسلامی جمہوریہ ایران شیطان بزرگ کیساتھ ہوئے ملے ہوئے ممالک کی ہر چال کو ناکام بناتا رہے گا چاہے اس کےلئے اس کوئی بھی قربانی دینا پڑے ان خیالات کا اظہار پشاور میں تعینات ایرانی قونصل جنرل رضاقمی نے روز کسوٹی کو خصو صی انٹرویو دیتے ہوئے کیا جو قارئیں کے لئے سوالاً جواباً پیش خدمت ہے ۔

س۔ پہلے تو آپ کا شکر یہ کہ ہمیں وقت دیا، بات کا آغاز روح اللہ زم کرتے ہیں جنہیں پھانسی دے دی گئی ، وہ سوشل میڈیا ایپ ٹیلی گرام میں آمد نیوز کے ایک گروپ کو چلا رہے تھے مگر اسکے باوجود انہیں انتی کڑی سزا دی گئی ۔ یورپی یونین اور انسانی حقوق کی علمبر دار تنظمیں بھی ان کے لئے آواز بلند کر رہی ہیں آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟

ج۔ بہت شکریہ آپ نے بہت اچھے نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے ابتدا میں یہ کہنا چاہوں گا کہ روح اللہ زم صحافی نہیں تھے کیونکہ ان کی سرگرمیاں صحافیوں کے معیار پر بالکل پورا نہیں اترتی تھیں وہ شخص جو اپنے ٹیلی گرام گروپ میں دستی بمب بنانے اور پر تشدد مظاہروں کی تربیت دیتا تھا تاکہ ملک میں بغاوت کو ابھار ا جائے جو شخص یورپی ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی حفاظت میں ہو آیا اس کو صحافتی اصولوں کے مطابق صحافی نہیں کہا جاسکتا ہے فرانس کی سیکورٹی فورسز اس شخص کی حفاظت پر مامور تھیں اور فرانس نے کئی بار اس کی حفاظت کی تصدیق بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کا انسانی حقوق اور دہشت گردی کے لئے دوغلے معیار کی وضاحت کی بھی کوئی ضرورت نہیں اس کے بارے می سب لوگ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔

س۔ آپ کے خیال میں یورپی ممالک آزادی اظہار یا اس شخص کو دہشت گردی قرار نہ دے کر اس سے کیافائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ؟

ج: بالکل: آپ دیکھیں یورپی ممالک نے خود کو مختلف دہشت گرد گروہوں جیسے مجاہدین خلق، الاحوازیہ اور توندرجیسے مختلف پرتشدد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا لیا ہے او ر کبھی بھی ان گروہوں کے جرائم کی مذمت تک نہیں کی۔ آپ نے دیکھا ہو گا فرانس اور جرمنی نے ہمارے ایٹمی سائینسدان جناب فخری زادے کے قتل جیسی گھناونی دہشت گردی کی مذمت تک نہیں کی لیکن ایک ایسے شخص کی پھانسی پر جس نے ملک کی سیکورٹی کے خلاف کئے گئے اقدامات کا اعتراف بھی کیا ہو اور جس کا موساد اور فرانس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ تعاون بھی آشکارا ہو چکا ہو اجن یورپی ممالک کس طرح سے اس کی پھانسی پر شور مچا رہے ہیں َ؟

سوال : ایران یورپی ممالک کے ایران پر عائد انسانی حقوق اور آزادی بیا ن کی خلاف ورزی کے الزامات کا کس طرح ردعمل دے گا ؟
جواب: سب سے پہلے تو ان ممالک کا آزادی بیان، دہشت گردی اور انسانی حقوق کے بارے میں رویہ تضادات سے بھرا ہوا اور منافقانہ ہے مغربی اور یورپی ممالک کے ذریعہ دہشت گردوں کو اچھے دہشت گردوں اور برے دہشت گردوں کے میں تقسیم کرنا دنیا میں دہشتگردی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا ان میں سے ایک معترض جو کہ خود ایک آمر ہے اس نے کس طرح اپنے ملک میں مظاہرین کو دبا کر ان کو تاریک جیلوں میں ڈال دیا اور ان کو پھانسی پر چڑھا دیا کس طرح ہم پر اعتراض کرتا ہے؟ وہ ممالک جو گذشتہ کئی سالوں سے یمن پر حملہ کرنے والے ممالک کو مغربی ساختہ ہتھیار دے کر ایک قوم کو قحط اور انسانی تباہی اور قتل عام کے حالات سے دچار کر دیا ہے۔ اور صدام جیسے شخص کو کیمیکل ہتھیار بیچے جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے اور کئی ہزار لوگ زخمی ہو ئے کس منہ سے انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں؟ ان کو انسانی حقوق کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

SONY DSC
SONY DSC

یورپی یونین اور کچھ ممالک کو نہ صرف اظہار نظر کا کوئی حق نہیں بلکہ ان کو چاہئے کہ ایرانی شہداءکی فیملی سے ان کو دئے جانے والے زخموں کی بابت معذرت خواہی کریں۔ البتہ یہاں ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ ان کے عکس العمل اور ان کے منافقانہ موقف کی ایرانی حکاومت اور ایرانی قوم کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حمید رضا قمی نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ نے ہر دور میں عالمی استعمار کی ظلم و زیادتیوں کا سامنا کیا ہے لیکن کبھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑا اور جب تک اس دنیا کے نقشے پر ایران قائم اس وقت تک مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والے اور انکے خلاف سازش کر نے والے عناصر کی سرکوبی اور مخالفت جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں