49

بلڈ پریشر کے لیے فائدہ مند اور نقصان دہ غذائیں

بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر امراض قلب، فالج، ہارٹ فیلیئر اور گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس سے بچنا یا روک تھام بہت آسان ہے؟

بس آپ کو اپنی غذائی عادات میں سادہ تبدیلیاں لانا ہوتی ہیں۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والے ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نیو کیسل یونیورسٹی کی تحقیق میں ان غذاﺅں کا ذکر کیا گیا ہے جو اس مرض سے بچاﺅ کے لیے مفید ہیں یا ان سے نقصان ہوسکتا ہے۔

جو
تحقیق کے مطابق جو کا استعمال بلڈ پریشر میں کمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، جس کی وجہ اس میں شامل فائبر کی ایک قسم بیٹا گلوکین ہے جو کہ فشار خون کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بالغ مردوں کو 30 گرام اور خواتین کو 25 گرام فائبر روزانہ استعمال کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے ناشتے میں جو کے دلیہ کا استعمال بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

چقندر
چقندر ایک جز انورگانک نائٹریٹ سے بھرپور سبزی ہے، جو ہضم ہونے کے دوران نائٹرک آکسائیڈ میں تدیل ہوجاتی ہے جو خون کی شریانوں کو کشادہ کرنے میں مدد دیتی ہے اس سبزی کے جوس کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔ اس حوالے سے تجربات میں متعدد افراد کو چار ہفتوں تک ڈھائی سو ملی لیٹر چقندر کا جوس استعمال کرایا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

وٹامن سی
تازہ سبزیوں اور پھلوں میں پائے جانے والا جز بلڈ پریشر کی سطح کو نمایاں حد تک بہتر بناتا ہے، مختلف طبی رپورٹس کے مطابق روزانہ 500 ملی گرام وٹامن سی کا استعمال فشار خون کی روک تھام کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے، تاہم جن افراد میں گردوں کی پتھری کا خطرہ ہو انہیں وٹامن سی کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ وہ گردوں میں جمع کر پتھری کا باعث بن سکتا ہے۔

نمک
نمک ایسی چیز ہے جو بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتی ہے، آپ کی خوراک میں جتنا زیادہ نمک ہوگا بلڈ پریشر بھی اتنا ہی بڑھے گا، ایک بالغ شخص کو روزانہ 1.2 سے 2.4 گرام نمک کی ضرورت ہوتی ہے مگر اکثر افراد بہت زیادہ نمک استعمال کرتے ہیں اسی لیے بلڈ پریشر کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔

کیفین
کیفین چائے، کافی، کولا اور انرجی ڈرنکس کی شکل میں جسم کا حصہ بنتی ہے، اس کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کی سطح کو مختصر مدت کے لیے بڑھانے کا باعث بنتا ہے، لہذا ان مشروبات کا زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں اپنے بلڈ پریشر کو بھی چیک کرواتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں