33

خیبر پختونخوا اسمبلی کا گرما گرم اجلاس، حکومت و اپوزیشن آمنے سامنے !

سپیشل سیکرٹری کو ہٹانے کے معاملے میں اپوزیشن کی گہری دلچسپی ، سپیکر اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے ، طالبات کو ہراساں کرنے اور بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لئے رواں سیشن میںقانون سازی کی یقین دہانی

اپوزیشن لیڈر اکرم درانی کی کورونا آڈٹ رپورٹ میں کرپشن کی نشاندہی پر تیز و تند جملوں کا تبادلہ ، حکومت نے بحث کو رولز کے منافی قرار دے دیا

محمد داﺅد
خیبر پختونخوا اسمبلی کے رواں اجلاس میں حکومت و اپوزیشن کے درمیان اہم معاملات پر بحث و گرما گرمی نے کافی عرصہ بعد میڈیا کو کراری خبریں فراہم کر دیں ہیں جو میڈیا میں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ، حزب اختلاف و حزب اقتدار کے حامی بھی ان مسائل پر بحث کرتے نظر آرہے ہیں موجودہ سیشن کے دوران سب سے سنسنی خیز خبر سپیکر کے سپیشل سیکرٹری وقار شاہ کے ہٹائے جانے اور مبینہ طور پر ان کی جانب سے پی ٹی آئی کے کرتا دھر تا رہنماﺅں سے سفارش کروانے کی ہے، جس پر اپوزیشن ارکان نے سپیکر کی حمایت کر تے ہوئے مذکورہ سیکرٹری کی دوبارہ بحالی کی صورت میں عدالت جانے کا فیصلہ ہے ۔ قصہ کچھ یو ں ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے برخاست کئے جانے والے سپیشل سیکرٹری وقار شاہ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اوکزئی نے ایوان کی توجہ مبذول کرتے ہوئے کہا کہ سابق سپشل سیکرٹری وقار شاہ کو گذشتہ دور حکومت غیر قانونی طور پر پی آئی اے سے ڈیپوٹیشن پر اسمبلی میں سپیشل تعینات کیا تھاتاہم ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں ہٹا دیا گیا لیکن موجودہ دور حکومت میں ایک پھر قانوں تقاضے پورے کئے بغیر تعینات کیا گیا جبکہ رولز کے مطابق برائے راست سپیشل سیکرٹری تعینات نہیں کیا جاسکتا جنہیں ایک بار پھر سپیکر نے ہٹا دیا ہے تاہم وہ سیاسی دباﺅ و تعلقات کی بنا پر مذکورہ آسامی حاصل کرنا چاہتے ہیں اگر انہیں دوبارہ تعینات کیا گیا تو وہ عدالت سے رجوع کر یں گی، عوامی نیشنل پارٹی کے خوشدل خان نے بھی سپیکر کے فیصلہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی وقار شاہ کی تعیناتی غیر قانونی تھی اور سابق سیپیکر اسد قیصر کے دور میں بھی ان کی تعیناتی درست نہیں تھی اور اگر انہیں پھر تعینات کیا گیا تو وہ عدالت جائیں گے ۔ اس موقع پر سپیکر اسمبلی نے رولنگ دیتے ہوئے کہ وہ اسمبلی میں کسی غیر قانونی اقدام کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ کسی دباﺅ میں نہیں آئیں گے ۔
ادھرخیبرپختونخوااسمبلی میں محکمہ صحت سے متعلق آڈیٹرجنرل کی رپورٹ پر گرماگرم بحث ہوئی اپوزیشن لیڈراکرم درانی نے توجہ دلاﺅنوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ نے کورونا بیمای کی آڑمیں بے انتہاکرپشن ،بے قاعدگیاں اور بدانتظامی شروع کی ہے فنڈزبھی غیرمتعلقہ اورغیرذمہ داروں کوجاری کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ رپورٹ میں85نکات ایسے ہیں جس میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے بعد میں اکرم درانی نے موضوع پر پریس کانفرنس بھی کی جس کو حکومت نے مسترد کر دیا ہے اس حوالے سے وزیرخزانہ وصحت تیمورجھگڑا نے کہاکہ رولزکے مطابق توجہ دلاﺅنوٹس پربحث نہیں کی جاسکتی اپوزیشن کوقواعدوضوابط کاپتہ ہوناچاہئے سیاسی سکورننگ کےلئے رولز کی خلاف ورزی کی جارہی ہے کرپشن والے کرپشن کے الزامات نہ لگائیں وزیرصحت تیمورجھگڑانے جواب دیتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کو کوروناکی فکرہوتی توجلسے نہ کرتی اڈٹ پیرازپرسیکرٹری صحت کوآڈیٹرجنرل کے ساتھ بیٹھناہے جسکے بعد یہ پی اے سی آئے گا یہ رپورٹ آن پراسس ہے اس پر سیاست کرناجرم ہے ، اگرکوئی چوری ہوئی ہوگی توہم خودانکے گریبانوں پرہاتھ ڈال کرگرفتارکرینگے ہماری خواہش ہے کہ صوبے کے عوام کو مفت صحت کی سہولیات دیں صحت انصاف کارڈکے تحت31جنوری تک پورے خیبرپختونخوامیں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہوگا ۔سپیکرمشتاق غنی نے اکرم درانی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ خفیہ رپورٹ ہوتی ہے آپ کواسے ایوان میں نہیں لاناچاہئے تھا۔
سیاسی پوائنٹ سکورننگ کیساتھ کئی اہم معاملات بھی اجلاس میں زیر غور آئے جن میں بچوں پر تشدد اور تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے کے معاملات شامل ہیں،یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوااسمبلی نے یونیورسٹیوں میں طالبات کے ساتھ ہراسگی کے واقعات پرتفصیلی بحث کےلئے تحریک التواءکی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔
پیپلزپارٹی کی خاتون رکن نگہت اورکزئی نے تحریک التواءپیش کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹیوں میں اکثراوقات جنسی ہراسانی کے واقعات ہوئے ہیں جوکہ انتہائی تشویشناک اورافسوس کی بات ہے لہذا اسمبلی کی معمول کی کارروائی روک کر اس اہم موضوع پربحث کی اجاز ت دی جائے تاکہ طلبہ کے یہ مسائل حل ہوسکیں۔گزشتہ دنوں میں اسلامیہ کالج کی طالبات نے ہراسگی کےخلاف واک کی جن سے ملاقاتیں کیں جن کاتعلق معززگھرانوں سے ہے وزیرقانون سلطان محمد نے کہاکہ اینٹی ہراسمنٹ قوانین صوبے میں لاگو ہیں رخشندہ نازخواتین کےلئے صوبائی محتسب تعینات ہیں جوسماجی کارکن بھی رہ چکی ہیں انکی تعیناتی کے بعد ادارہ مزیدفعال ہوگیاہے حالیہ دنوں میں ہراسمنٹ پرکارروائی ہوئی ہے پشاور،گومل،ملاکنڈ،سوات اورہری پوریونیورسٹیز میں بہت سے لوگوں کو فارغ کردیاگیاہے اسلامیہ کالج کی طالبات کے احتجاج پر فوری ایکشن لیا گیا گورنرانسپکشن ٹیم نے تحقیقات بھی شروع کردی ہیں ۔
علاوہ ازیں خیبرپختونخوااسمبلی میں بچوں پرتشددکے واقعات میں تسلسل کے ساتھ اضافے پرغم وغصے اورتشویش کااظہار کیاگیااے این پی کے اراکین صلاح الدین اور خوشدل خان نے مشترکہ توجہ دلاﺅنوٹس میں کہاکہ انکے حلقہ پی کے70میں کچھ روز قبل چارسالہ بچے طاہراللہ کی لاش قریبی کھیتوں سے ملی سفاک قاتلوں نے تیزدھارآلے سے بچے کے پیٹ کوچیرکرقتل کردیاتھا جسکی وجہ سے پوراعلاقہ افسردہ ہے اسی طرح19نومبرکوبڈھ بیر میں کمسن بچی کونامعلوم سفاک قاتلوں نے بے دردی سے قتل کرکے نعش کوآگ لگادی اس کےخلاف اہل علاقہ نے کوہاٹ روڈ پردھرنابھی دیاانہوں نے کہاکہ ہرفردکاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جس میں حکومت ناکام ہوچکی ہے لہذاحکومت پولیس کوسختی سے ہدایت دے کہ مذکورہ واقعات میں ملوث افرادسے جدیدسائنسی بنیادوں پر تفتیش کرکے جلدازجلد ملزمان تک رسائی حاصل کرکے گرفتارکیاجائے۔خوشدل خان نے کہاکہ پولیس کارروائیوں سے مطمئن ہیں لیکن کیاوجہ ہے کہ ایسے واقعات تسلسل کےساتھ ہورہے ہیں اگربڈھ بیرکیسوں میں پیشرفت نہ ہوئی تودوبارہ دھرنادینگے صلاح الدین نے کہاکہ علاقے میں یہ چوتھا واقعہ ہے واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہاہے ملوث ملزمان تواترکےساتھ حکومتی رٹ چیلنج کررہے ہیں ان واقعات کی وجہ بیروزگاری اورغربت ہے جس کے خاتمے کےلئے حکومت کوکوئی فکرنہیں بیروزگاری ختم نہ ہوگی توجرائم بڑھیں گے کوہاٹ روڈچھ گھنٹے بندرہالیکن کوئی حکومتی نمائندہ نہیں آیااپوزیشن لیڈراکرم درانی نے کہاکہ اس طر ح کے واقعات صوبے کے مختلف اضلاع میں رونماہوئے ہیں عوام کاتحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے یہ دہشتگردی ہے امن وامان کامسئلہ سنگین ہوچکاہے اس سے عوام میں اشتعال پایاجاتاہے حکومت نمائندوںکوچاہئے تھاکہ غمزدہ خاندانوں کے پاس جاتے اورانکی مالی امدادکی جاتی لگتاہے کہ وزیراعلیٰ نے اسمبلی سے بائیکاٹ کیاہواہے شاید وہ حکومت اراکین سے ناراض ہیں وزیرقانون سلطان محمد نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ بڈھ بیر کادلخراش واقعہ ہے اس پر سیاست سے بالاترہوکربات کی ضرورت ہے سب کے دل خفااورغم وغصہ پایاجاتاہے یہ واقعات ہرجگہ ہوتے آرہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ چائلڈپروٹیکشن ایکٹ اچھاقانون ہے سپیکرکی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ترامیم تجویز کی ہیں سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ نے ترمیمی بل کابینہ کوبھجوادیاہے امیدہے اسی رواں سیشن میں قانون کوپاس کر لیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں